صاحب غرض

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - غرض مند، حاجت مند شخص۔  اے ظفر صاحب غرض سے بھاگتے ہیں لوگ دور اس زمانے میں کہیں جاؤ تو جاؤ بے غرض      ( ١٨٤٩ء، کلیات ظفر، ٤٦:٢ ) ٢ - خود غرض، مطلبی۔ "بادشاہ، ملاعبداللہ کو صاحب غرض جان کر اوس کی بات پر کان نہیں لگاتا تھا۔"      ( ١٨٩٧ء، تاریخ ہندوستان، ٣٦١:٣ )

اشتقاق

عربی زبان سے مشتق اسم 'صاحب' کے ساتھ کسرہ اضافت لگا کر عربی اسم 'غرض' لگانے سے مرکب اضافی بنا۔ اردو زبان میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٨٠٣ء کو "گنج خوبی" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - خود غرض، مطلبی۔ "بادشاہ، ملاعبداللہ کو صاحب غرض جان کر اوس کی بات پر کان نہیں لگاتا تھا۔"      ( ١٨٩٧ء، تاریخ ہندوستان، ٣٦١:٣ )